Kuch kami Si Thi By Farhat Shaukat

کچھ کمی سی تھی از فرحت شوکت


Welcome to the World of Urdu Novels!

Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.

We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.

Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.

Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.


Sneak Peek

“آیان!”
وہ پلیٹ کر سوالیہ انداز میں اس کی جانب دیکھنے لگا۔
“مجھے معاف کر دو آیان۔”
اس کی آواز
میں کپکپاہٹ نمایاں تھی۔ وہ بغور اس کے چہرے
کو دیکھ رہا تھا۔
“اس وقت جو کچھ بھی ہوا محض غلط فہمی کی بنا
پر ہوا تھا مگر اس کا مطلب یہ تو ہر گز نہیں تھا کہ میں تم پر شک کر رہی تھی۔ میں تم پر کبھی بھی شک نہیں کر سکتی آیان۔l
چیره
اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی مگر شاید وہ
بے خبر تھی تب ہی بولتی چلی گئی
“میں نے اگر زندگی میں کسی پر اعتبار کیا
ہے تو وہ صرف تم ہو آیان مگر تمہیں لگا کہ میں ذرا سی بے اعتباری کے باعث تم کو……جو تم نے اس وقت کیا۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ تمہارے اور میرے بیچ اعتبار ہی تو تھا
پھر کیسے تمہیں بے اعتبار سمجھ سکتی تھی میں۔“
اس کی پلکوں پر اٹکے آنسو اس کے چہرے پر بکھر گئے تھے۔اس نے فوراً سر جھکا لیا۔وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھ گیا۔
“بس یا اور کچھ کہنا چاہتی ہیں آپ؟”
اس نے انتہائی نارمل سے انداز میں پوچھا۔ وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ پھر کچھ دیر بعد بولی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ اب بھی مجھے ہی کچھ کہنا چاہیے۔”
اس کے لہجے سے شکوہ جھلک رہا تھا۔ فوری طور پر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا پھر جانے کے واپس مڑ گیا۔ تو وہ گویا پھٹ ہی پڑی۔
“تم نے اس وقت بھی کچھ نہیں کہا تھا آیان۔ بس سارا الزام اپنے سر لیا اور چلے گئے ۔ یہ بھی جانے کی کوشش نہیں کی کہ تمہار ہے ان چند الفاظ نے مجھے کتنی اذیت پہنچائی تھی۔ کاش کاش تم مجھ سے شکوہ کرتے آپان۔ مگر تم شکایت بھی کیوں کرتے؟ تم نے مجھے کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں تھا۔”“کس حق کی بناء پر میں آپ سے شکوہ کرتا یا آپ کو اپنا سمجھتا۔”
وہ اس کی طرف پلٹ کر گویا ہوا۔


Read More Novels


About The Author

Farhat Shaukat is a well-known Pakistani novelist known for her love, crime, and emotional stories. Love, sacrifice, and family connections are often the subjects of her work.


About The Author

Name: Kuch Kami Se Tha

Writer: Farhat Shaukat

Status: Complete, Digest

Category:  Happy Ending, Boss Employee Based

Pages: 34


Follow For The Latest Posts


Click Below To Download The PDF File

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *