تیری الفت میں صنم از اقرا صغیر احمد
Welcome to the World of Urdu Novels!
Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.
We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.
Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.
Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.
Read More Categories
- After Marriage Based
- After Nikkah Based
- Age Difference based
- Boss Employee Based
- Caring Hero Based
- Cousin Marriage Based
- Digest
- Force Marriage Based
- Iffat Sehar Pasha
- Kidnapping Based
- Latest Posts
- Mariam Aziz
- Nabeela Abar Raja
- Nabeela Aziz
- Nadia Ameen
- Others
- Police Based Hero
- Police Hero Based
- Rude Hero Based
- Rude Heroin
- Second Marriage Based
- Strong Heroin
- Student Teacher Based
- Uncategorized
- Wani Based
- Web Based Novels
Sneak Peek
“میرا خیال ہے پہلی ڈوز نے کافی اثر دکھایا ہے۔”
وہ اس کی بکھری ، بگڑی حالت دیکھ کر تمسخر سے گویا ہوا ۔
“آؤ کھانا کھاؤ۔ میرے خیال میں اتنی سزا کافی ہے۔ “
شاہ ویز کے لبوں پر کاٹ دار مسکراہٹ تھی ۔ آنکھوں میں برتری کی چمک، لہجہ نرم تھا مگر انداز جارحانہ تھے۔ تیور بگڑے ہوئے چہرے کے تاثرات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ مشتعل کسی مشتعل کی طرح ہی جل اٹھی تھی۔
“آئیں نا میڈم ! آپ کی خدمت میں کھانا پیش ہے۔ “
وہ آگے بڑھا اور کچھ جھک کر استہزائیہ لہجے میں مخاطب ہوا۔
“نہیں کھانا مجھے تمہارا کھانا ۔ لے جاؤ یہاں سے۔“ وہ غرائی تھی ۔
“آؤ شاباش۔ اچھے بچے ضد نہیں کرتے ۔ “
اس کا انداز سو فیصدی چڑانے والا تھا ۔
“میں کہتی ہوں دفع ہو جاؤ یہاں سے .. ورنہ شوٹ کر دوں گی تمہیں ۔”
“مجھے معلوم تھا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔”
یکدم ہی اس کے تیور بدلے تھے ۔
“مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہرگز نہیں رہنا تم انسان نہیں وحشی درندے ہو۔ “
شاہ ویز کے اہانت آمیز سلوک نے اس کے باغی ذہن کو مزید باغی کر دیا تھا۔
“اب جیسا بھی ہوں تمہارا نصیب ہوں، جاہل، اجڈ ، گنوار، درنده، وحشی، فقیر ، حقیر ، جیسا بھی ہوں تمہیں مجھے بھگتنا ہوگا کیونکہ خواہ نیچا دکھانے کے لئے ہی سہی ، خواہ انجوائے منٹ کی خاطر تم نے نکاح نامے پر اپنی مرضی سے سائن کئے تھے اس لئے مجھے برداشت کرنا تہیں نا گوار نہ گزرے گا۔ اس معاملے میں تو میرے ساتھ زیادتی و زبر دتی کی گئی ہے اس کے باوجود میں تمہیں برداشت کر رہا ہوں بلکہ آخری سانس تک بھگتے کا عہد کر چکا ہوں ۔“
اسکا لہجہ از حد پرسکون ہو چکا تھا ۔ وہ اتنے پُرسکون و دھیمے انداز میں بات کر رہا تھا گویا بہت پیار بھری باتیں کر رہا ہو اور اس کے اسی انداز نے مشعل کو بھڑ کاؤ الا تھا۔
“جب تمہارے ساتھ تمہاری مرضی و پسند کا خیال نہیں رکھا گیا تو کیوں مجھے بھگت رہے ہو؟ چھوڑ دو۔ اپنی دنیا اپنی پسند سے بساؤ اور مجھے آزاد کر دو۔”
“ یہی تو فرق ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہی تو فرق ہے تمہارے اور میرے اسٹینڈرڈ میں جہاں شوہر بھی لباس کی طرح تبدیل کئے جاتے ہیں، بیویاں سینڈل کی طرح بدل دی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسی کوئی بے جمیعتی کی مثال نہیں ہے ۔ دل چاہے نہ چاہے پسند ہو یا نا پسند، فراخ دلی سے رشتہ نبھانا ہی پڑتا ہے ۔“
“یوں کہونا تم لوگ منافقت پسند ہو۔”
وہ پھنکاری۔
“نہیں!ایثار پسند و جرات مند۔”
دو بد و جواب آیا ۔
“کھانا کھارہی ہو یا اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں ؟گِو کہ یہ کافی ناپسندیدہ عمل ہو گا میرے لئے مگر کیا کروں، بچپن سے کافی رحم دل واقع ہوا ہوں، بھو کی بلیوں کو اپنے حصے کا ،دودھ پلا دیا کرتا تھا۔ پھر تم تو انسان ہو اور تم بھوک سے مر جاؤ یہ گناہ میں نہیں کر سکتا۔”
وہ ٹیبل پر برتن رکھتے ہوئے اطمینان سے کہہ رہا تھا اور اس کے تیور دیکہر یقین کرنے میں دیر نہ کی کہ وہ سچ مچ اس زبر دتی اپنے ہاتھ سے کھلانے پر آمادہ ہے۔
“کمینہ۔۔۔۔۔”
وہ دانت پیستی ہوئی آگے بڑھی اور ایک پلیٹ میں بریانی نکال کر کھانے لگی ۔ اس کا ارادہ تھا چند لقمے لے کر اٹھ جائے گی مگر کھانا انتہائی لذیذ بنا ہوا تھایا اس کی بھوک انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی تھی ۔ ایسی ندیدوں کی طرح کھانے پر ٹوٹی تھی کہ کمرے میں شاہ ویز کی موجودگی بھی فراموش کر بیٹھی تھی ۔ کھانے کے بعد پانی پی کر سیدھی ہوئی تو سامنے بیٹھے شاہ یز کو دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ وہ کس طرح کھانے پر ٹوٹی تھی
“میرے خیال میں تمہاری عقل ٹھکانے پر آچکی ہوگی۔”
اس نے کافی دیر بعد کمرے کی خاموشی توڑتے ہوئے گفتگو کا آغاز خا صے اطمینان بھرے انداز میں کیا۔
“مطلب؟”
اس کی غراہٹ نما آواز ہونٹوں سے خارج ہوئی تھی۔
“مطلب یہ مسز شاہ ویز!! کہ کل صبح سے آپ اس گھر کی بہو کے فرائض سنبھالیں گی ۔ صبح کا بر یک فاسٹ، دو پہر کا پیچ ، شام کی چائے ، رات کے ڈنر کی تیاریاں اب آپ کی ذمے داری ہوں گی۔ بے جی نے اپنے فرائض کی بہت ادائیگی کر دی ۔ اب کل سے تم اپنی ڈیوٹی سنبھالو گی اور مجھے بار بار اپنی بات دہرانے کی عادت نہیں ہے سمجھیں ۔ “
جملے کی آخری ادائیگی میں اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔ مشعل نے پہلے چند لمحے اس کی جانب گھور کر دیکھا مگر اس کی نگا ہیں اٹھتی دیکھ کر ہی رخ موڑ کر کھڑی ہو کر تنفر سے گویا ہوئی ۔
“ہونہہ پہلے بیوی کے فرائض کی ادائیگی کے قابل تو ہنو ، پھر بہو کی بات کرنا۔”
اس کے لہجے میں ایسی کاری ضرب تھی کہ شاہ ویز کی انا وحمیت جھنجھنا اٹھی تھی ۔ آن واحد میں اس نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑ لی تھی۔ وہ جو اپنی جگہ اکڑ کر کھڑی تھی اس کے اچانک کلائی دبوچنے سے سنبھل نہ سکی اور کسی ٹوٹی شہتیر کی طرح اس کے سینے سے آ گئی ۔ کمرے کی فضا ایک دم ساکت ہو گئی ۔ وقت کی تال رک گئی ۔ ہر شے منجمد ہوگئی۔ مشتعل اس کے آہنی سینے سے لگی کھڑی تھی ۔
“مرد کو جب مردانگی کے طعنے ملیں تو اسے وحشی بنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور وحشی انسا نیت و اخلاقیات سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں محترمہ ! اور جب اخلاقیات کے تقاضوں پر حیوانی تقاضے غالب آجائیں تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ شرافت، لحاظ، مروت، حیا سب احساسات مفقود ہو جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان حجاب و احترام کا پردہ گرا ر ہے تو بہتر ہے۔”
وہ اسے بازوؤں کے حصار میں لئے ہوئے اس کے رنگ بدلتے چہرے پر نگاہیں گاڑے آہستہ آہستہ گیمبھر لہجے میں ایک ایک لفظ کہہ رہا تھا۔ وہ بے جان انداز میں نگاہیں جھکائے سن رہی تھی ۔
“میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں خود کو اس قابل بناؤ کہ تمہیں بیوی کے درجے پر فائز کیا جائے ۔“
اس نے آہستگی سے اسے خود سے دور کیا تھا اور کمرے سے نکل گیا-
About The Novel
Name: Teri Ulfat Main Sanam
Writer: Iqra Sagheer Ahmed
Status: Complete, Digest
Category: After Marriage Based, Happy Ending
Pages: 110+
About The Author
Iqra Sagheer Ahmed is a famous Pakistani author whose writing sounds convincing and true-to-life. A writer with a strong storytelling reputation, she can interweave stories among the human depth and the nuances of humanity in society. Her work is characterized by sharp observation of ordinary life with drama and suggestive thoughts. Iqra has made her niche within modern Pakistani literature through her writings, proving to be a captivating read to readers with her outlook.