وہ سکندر ہے از عفت سحر
Welcome to the World of Urdu Novels!
Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.
We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.
Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.
Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.
Sneak Peek
“میں جاب کر رہی ہوں۔ “
اس نے بڑے سرسری سے انداز میں بتایا تھا۔ جب کہ وہ بیٹھا اسے دیکھتا رہ گیا۔ پھر بے حد طنز سے بولا۔
“اجازت مانگ رہی ہو یا مطلع کر رہی ہو؟”
“اجازت مانگنے کی مجھے نہ تو ضرورت ہے اور نہ تمہارا مقام۔”
وہ خود پر جبر کرتے ہوئے دل میں اٹھنے والے درد کو دبائے بڑے سکون سے بولی تھے وہ اس کے غیر متوقع و غیر یقینی الفاظ پر ششدر رہ گیا۔۔
“کیا بکواس ہے یہ……..پاگل تو نہیں ہو گئیں تم؟” وہ یک لخت ہوش میں اکر غرایا تھا۔
“اس میں پاگل پن کی کیا بات ہے؟”
اجلال نے اس کے باغیانہ وجارحانہ تاثرات بغور دیکھے تھے۔ اس کے الفاظ اندر تک سلگا گیے۔
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں جاب واب کی۔”
وہ اکھڑ لہجے میں بولا۔ اس کا یہ روپ فاریہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ کبھی اس پر غصہ کرتا ہی کب تھا؟
“کیوں ؟”
اس نے تیوری چڑھائی۔
“ہمارے لیے کیا من و سلوی اترے گا؟”
فاریہ کے لہجے کی تلخی کو اجلال نے بمشکل برداشت کیا تھا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
تم لوگ میری ذمہ داری ہو اور یہ بات میں تم سے ہی پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ “
اجلال کے لہجے میں خفیف سی جھلاہٹ در آئی تھی “دیکھو اجلال تمہاری یہ ہمدردی قابل تعریف ہے مگر میں اس ” ترس ” کی عادی نہیں ہوں۔”
وہ بہت ٹھنڈے لہجے میں بولی۔ غصے سے اجلال کا برا حال تھا۔
“بہت جلد احساس ہو گیا تمہیں میری ہمدردی کا؟”اس نے طنزیہ انداز میں اسے جتلایا تھا۔
“اچھا ہوانا ……ورنہ جانے کب تک اسی دھوکے
میں رہتی۔”
وہ اس انداز میں بول رہی تھی۔ وہ پہلی مرتبہ اس کو جھاڑ بیٹھا۔
“شٹ اپ بہت بکواس کرلی تم نے۔ اب اگر تم نے میری محبت کو ہمدردی یا دھوکے کا نام دیا تو مار ڈالوں گا تمہیں۔”
لمحہ بھر کوہ ساکت بیٹھی رہی۔
محبت ؟”
وہ یوں بولی جیسے یہ لفظ بالکل پہلی مرتبہ سنا ہو۔ پھر اس کا مذاق اڑانے والے انداز میں کہنے لگئی۔
“کمال ہے یعنی اب کسی کے ساتھ ہنس کے بات
کر لینا بھی محبت میں شمار کیا جانے لگا ہے۔”
“کیا کہہ رہی ہو تم ؟”
وہ یک لخت برفیلے انداز میں بولا تھا۔ فاریہ کے انداز اسے کھٹک رہے تھے۔
“یعنی اب بھی کوئی وضاحت باقی ہے۔”
اس نے زمانے بھر کی بے زاری اپنے لہجے میں سموئی۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جلد از جلد یہاں سے چلا جائے۔
“ہاں…..باقی ہے وضاحت ……”
اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پھنکارا تھا۔
”تم کیا سمجھتی ہو کہ تم یوں دو چار فضول باتیں کرکے مجھے کانٹوں پر گھسیٹ کر خود کو ہر الزام سے بری کر لوگی ؟”
وہ خائف۔ سی ہو کر پیچھے ہٹتے ہوئے اٹھنے لگی مگر اس سے پہلے ہی اجلال نے اس کی کلائی جکڑ لی۔ “دیکھو اجلال یہ دھونس اور زور و زبردستی والا معاملہ نہیں ہے۔۔۔۔میں تم سے ایکسکیوز کرنے کو تیار ہوں اگر۔۔۔۔۔تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی تو۔۔۔۔۔”
“غلط فہمی۔۔۔۔۔”
وہ ششدریا اسے دیکھنے لگا۔
Read More Novels
- About us
- After marriage
- After Nikkah
- Age Difference
- Army Based
- Arrange marriage
- Contact
- Cousin marriage based
- Digests
- Disclaimer
- Genres
- Home
- Privacy Policy
- Revenge based
- Second marriage based
- Student teacher
- Terms and Conditions
- Wani Based
- Web Novels
- Writers
About The Novel
Name: Wo Sikander Hai
Writer: Iffat Sehar Tahir
Status: Complete, Digest
Category: Czn Marriage Based, Happy Ending
Pages: 65
About The Author
Iffat Sehar Tahir is a well-known Pakistani digest writer admired for relatable characters and engaging storytelling. Her novels often explore social issues and themes of family and love. She writes with a simple but powerful style. Because she has a loyal readership all across Pakistan, she continues to speak respectfully within Urdu literature.