Intezar e Sehar By Sidra Hayat

Intezar e Sehar By Sidra Hayat

انتظار سحر از سدرہ حیات


Welcome to the World of Urdu Novels!

Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.

We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.

Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.

Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.


Sneak Peek

“لگتا ہے پھر سے فرار ہونے کا ارادہ ہے۔”
اس کا مخصوص انداز پہ تپِی تھی۔
“جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ پولیس والوں کو ہر کسی پر چوبیس گھنٹے تک شک ہی رہتا ہے۔
“مگر آپ پر تو یقین تھا مجھے کہ آپ کی کوئی کہانی ہے۔ بہت پہلے ہی میں پہچان گیا تھا کہ آپ عباس کے گھر والی لڑکی ریشم ہیں اور اس کے لیے آپ کی ایک جھلک ہی کافی تھی۔”
اس نے پچھلی بات کا حوالہ دیا تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔
“پھر آپ نے مجھے چھوڑ کیسے دیا۔“
“آپ پر نظر تھی میری کہ آپ ایسی ویسی حرکت کریں تو کوئی ایکشن لوں اور پھر بی جان آپ کے متعلق کچھ سننے پر بھی تو راضی نہیں تھیں، ان کو مطمئن کرنا بھی ضروری تھا۔
“سزا تو آپ کو ملنی ہی چاہیے۔”
اسے خاموش یکھ کروہ بولاتو وہ فورا بول پڑی۔
“میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔“
اگر اتنا یقین تھا تو آپ کو بی جان کو یا مجھے بتا دینا چاہیے تھا بجائے خود پریشان ہونے کے۔”
ریان سنجیدگی سے بولا۔
“یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ جیسی زندگی میں نے گزاری ہے اس کے بعد اتنی جلدی اعتبار نہیں آتا نہ لوگوں پر نہ ہی حالات پر۔“
“اب خوش ہیں آپ نئی زندگی اور نئے فیصلوں ہے۔”
اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تو اسے یاد آیا، جھجک کر بولی ۔
“آپ کو بڑوں کے فیصلے کا علم ہے۔“
شاید اسے معلوم ہی نہ ہو اس نے سوچا تھا۔
“…بالکل۔”
“تو آپ نے انکار کیوں نہیں کیا۔مطلب میں اور آپ بہت مختلف ہیں ایک دوسرے سے ۔”
“اب کیا کریں، بی جان کا بوجھ بھی تو کم کرناہے نا اور پھر آپ نے خود ہی تو بی جان سے کہا ہے کہ آپ کو اپنے پاس ہی رکھ لیں۔“
اس کا انداز اسے غصہ دلا گیا تھا۔
“جی نہیں، میں بی جان پر بوجھ نہیں ہوں اور میری بات کا مطلب کچھ اور تھا آپ اسے غلط رنگ نہ دیں۔”
“پولیس والے تو بات کی تہ تک پہنچ جاتے ہ ویسے آپ کہہ بھی دیتیں کہ اپنے پوتے سے شادی کرادیں تب بھی بی جان برا نہ مانتیں۔”
اس محظوظ ہو کر کہا۔
“مجھے آپ سے شادی کا کوئی شوق نہیں اور میں ابھی چاکر بی جان کو منع کرتی ہوں۔ یوں ہیں آپ مجھے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔“


Read More Categories


Follow Us On Social Media


Click Below To Download The PDF File

Latest Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *