کھویا کھویا میری عید کا چاند از نائلہ طارق
Welcome to the World of Urdu Novels!
Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.
We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.
Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.
Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free
Read More Categories
- After Marriage Based
- After Nikkah Based
- Age Difference based
- Boss Employee Based
- Caring Hero Based
- Cousin Marriage Based
- Digest
- Force Marriage Based
- Iffat Sehar Pasha
- Kidnapping Based
- Latest Posts
- Mariam Aziz
- Nabeela Abar Raja
- Nabeela Aziz
- Nadia Ameen
- Others
- Police Based Hero
- Police Hero Based
- Rude Hero Based
- Rude Heroin
- Second Marriage Based
- Strong Heroin
- Student Teacher Based
- Uncategorized
- Wani Based
- Web Based Novels
Sneak Peek
دو قدم ہی اس نے آگے بڑھائے تھے جب ایک بھیانک آواز پر وہ دہل کر پلیٹی تھی وہ یقینا گھر کا پالتو کتا تھا جو بھوکتا ہوا برق رفتاری سے اس کی جانب آرہا تھا جس کے اوسان خطا ہو چکے تھے نسوانی چیخوں پر وہ کچن کے عقبی دروازے سے روڑتا ہوا لان میں آیا تھا اور اگلے ہی پل دنگ رہ گیا تھا شہتوت کے گھنے درخت کی مضبوط ٹہنی پر بیٹھی وہ خوف سے کانپ رہی تھی جبکہ درخت کے پاس ہی ٹہلتا کتا اس کے نیچے اترنے کا منتظر تھا۔
“تم کبھی انسانوں والی حرکتیں نہیں سیکھ سکتے واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جائے۔”
کتے کو گھر کہتے ہوئے اس نے حکم دیا تھا اور وہ کتا واقعی فرمانبرداری کے ساتھ دم ہلاتا اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔
“اب آپ نیچے تشریف لاسکتی ہیں۔”
سر اٹھا کر یاقوت نے اس کے سفید پڑے چہرے کو دیکھا تھا۔
“نہیں وہ پھر میرے پیچھے آجائے گا۔”
نفی میں سر ہلاتی روہانسی ہونے لگی تھی۔
ڈریں مت وہ کچھ نہیں کرے گا۔”
“مگر وہ کچھ بھی کر سکتا ہے دیکھیں وہ مجھے وہاں سے بھی گھور رہا ہے۔”
دہشت کے ساتھ حمامہ نے اشارہ کیا تھا۔
“میرا یقین کریں وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا لڑکیوں کا احترام وہ بہت کرتا ہے بس اسے لڑکیوں کے پیچھے بھاگنے کا جنون ہے۔”
وہ بمشکل مسکراہٹ چھپائے بولا تھا۔
“میں اتنی اوپر کیسے پہنچ گئی اب میں نیچے کیسے آؤں گی”
پہلے تو خطرے نے اسے احساس نہیں ہونے دیا تھا مگر اب دوبارہ اس کے اوسان خطا ہونے لگے تھے۔
“نیچے آ کر آپ مجھے بس یہ سیکریٹ بتا دیجئے گا کہ سلیپرز کے ساتھ آپ اس درخت پر چڑھ کیسے گئیں؟اس کے مسکرانے پر اور اپنی حالت زار پر وہ بری طرح شرمندہ ہو گئی تھی،
”اس بے چاری کو نیچے لانے کے لئے کچھ کرو کہیں گر نہ جائے وہ۔
“میں ایک ہی کام کر سکتا ہوں۔”
سنجیدگی سے بول کر اس نے حمامہ کو دیکھا تھا۔
“کود جاؤ۔”
“نہیں”۔ دہشت کے ساتھ وہ مزید ٹہنی سے چمٹ گئی تھی جبکہ اپنی ماں کے گھور نے پردہ فورا ہی ایک چیئر اٹھا لایا تھا۔
“آپ اپنے پیر میرے کندھے پر رکھ دیں۔”
چیز پر چڑھ کر اس نے ہدایت دی تھی۔
“نہیں میں یہ نہیں کر سکتی۔”
حمامہ نے ہول کر پیر سمیٹ لئے تھے۔
اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے سلیپرز نیچے پھینک کر پیر یاقوت کے شانے پر رکھ دیئے تھے بہت سنبھال کر چیئر سے اترتے ہوئے وہ مزید گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
“معاف کیجئے گا کافی بھاری بھر کم ہیں آپ – “
ہاتھ جھاڑتے ہوئے اس نے مسکراتی نظروں سے حمامہ کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا تھا۔
About The Novel
Name: Khoya Khoya Meri Eid Ka Chand
Writer: Naila Tariq
Status: Complete, Digest
Category: Caring Hero Based, Happy Ending,
Pages: 09
About The Author
Naila Tariq is a Pakistani Urdu fiction writer who has written stories in famous digests like Shuaa, Khawateen, Kiran, and Aanchal. She emphasises love, marriage, and family relations. Her stories, which are about real-life events and genuine emotions, endear her readers to her.
Follow Us On Social Media
Click Below To Download The PDF File
Latest Posts