آگاہی کے پل از رشیدہ رفعت
Welcome to the World of Urdu Novels!
Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.
We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.
Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.
Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.
Read More Novels
- After Marriage Based
- After Nikkah Based
- Age Difference based
- Boss Employee Based
- Caring Hero Based
- Cousin Marriage Based
- Digest
- Force Marriage Based
- Iffat Sehar Pasha
- Kidnapping Based
- Latest Posts
- Mariam Aziz
- Nabeela Abar Raja
- Nabeela Aziz
- Nadia Ameen
- Others
- Police Based Hero
- Police Hero Based
- Rude Hero Based
- Rude Heroin
- Second Marriage Based
- Strong Heroin
- Student Teacher Based
- Uncategorized
- Wani Based
- Web Based Novels
Sneak Peek
“فری یار میری شرٹ تو پریس کر دو۔”وہ اپنا فیورٹ ڈرامہ دیکھنے کے لیے لاؤنج میں آکر بیٹھی ہی تھی کہ بوتل کے جن کی طرح غازی صاحب نمودار ہو گئے۔
“غازی پلیز ابھی کچن سے نکلی ہوں ، تھوڑی دیر پسینہ تو سکھانے دو۔”
ندرت بیلکم پاس بیٹھی تھیں اس لا لیے فارینہ منہ پھاڑ کر انکار نہ کر سکتی۔
“اچھا ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں میں خود کر لیتا ہوں۔”
بے حد نرمی سے اسے مخاطب کر کے وہ سے شرٹ لیے واپس پلٹ گیا تھا۔ استری اسٹینڈ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ حسب توقع دانت کچھ جاتی ہوئی فارینہ بھی آگئی۔
“تم اتنے گھنے میسنے کیوں ہو غازی ؟ جب دیکھ لیتے ہوتا کہ امی میرے پاس بیٹھی ہیں جب ہی کوئی کام کہتے ہو اور کہنے کا انداز بھی اتنا معصومانہ اور شریفانہ ہوتا ہے کہ آگے سے کوئی انکار کر ہی نہ سکے۔”
اس نے اس کے ہاتھ سے شرٹ چھینی تھی۔
“ہاں ، لیکن تم نے تو انکار کر دیا تھا نا۔”
اسی معصومانہ سے انداز میں فارینہ کو یا د ولایا۔
“انکار کے بعد امی کا ھورنا اسٹارٹ ہو گیا تھا اور امی کے گھورنے پر بھی میں ٹس سے مس نہ ہوتی تو پھر وہ لمبا چوڑا لیکچر ملنا تھا مجھے کہ ڈرامہ ختم ہو جاتا اس کا لیکچر ختم نہ ہوتا۔”
وہ خفگی سے کہتے ہوئے شرٹ پر یہ رٹ پریس کرنے لگی۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“بہت ہڈحرام ہو تم غازی۔ ذرا سا کام بھی نہیں
ہوتا تم سے کپڑے پریس کرنا کوئی ایسا مشکل آرٹ بھی نہیں جو تم سیکھ ہی نہ سکو۔ بس مجھے تنگ کرنے کے بہانے ہیں۔”
فارینہ کی بڑبڑاہٹ ہنوز جاری تھی۔
“”سیکھ لوں گا یار۔ پرامس شادی کے بعد خود کپڑے پر لیس کیا کروں گا۔”
غازی مسکراہٹ دباتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے مخاطب ہوا تھا۔
“ہاں ہونے والی بیوی کا ابھی سے اتنا خیال اسے آرام پہنچاؤ گے تو میرا کیا قصور ہے۔ “
حسب توقع وہ چراغ پا ہو گئی تھی۔
About The Novel
Name: Aaghai Kay Pal
Writer: Rishida Riffat
Status: Complete, Digest
Category: Cousin Marriage Based, Happy Ending
Pages: 20+
About The Author
Rashida Riffat is a Pakistani Urdu fiction writer who has written stories in famous digests like Shuaa, Khawateen, Kiran, and Aanchal. She emphasises love, marriage, and family relations. Her stories, which are about real-life events and genuine emotions, endear her readers to her. Some of her best reads are Mohabbat Zindagi Hai, Ab Mohabbat Karni Hai and Deep Dil Ke Jalay.