Wo Pagal Se Dewani Se By Naila Tariq

وہ پاگل سی دیوانی سی از نائلہ طارق


Welcome to the World of Urdu Novels!

Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.

We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.

Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.

Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free


Sneak Peek

“کیوں اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی اذیت میں مبتلا کر رہی ہو تم یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم؟ کوئی ایک انسان بھی تمہیں اس خطر ناک بارش میں لطف اٹھاتا دکھائی دے رہا تھا؟”
وہ شدید غصیلے لہجے میں اس سے مخاطب تھا جو سر سے پیر تک شرابور جلتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“جس کنڈیشن میں تم صبح مجھے نظر آئی تھیں اس میں تم اس طرح گھر سے نکلنا افورڈ کر سکتی تھیں، تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے یا پھر تم مجھے پاگل کر دو گی۔”
تاسف زدہ لہجے میں وہ بولا تھا۔
“جاؤ اب چینج کرو۔”
اس کے بھیگے وجود سے نظر چراتے ہوئے وہ پلٹ کر کمرے کی سمت بڑھا تھا۔
“ایسی کون سی مجبوری تھی جو آپ نے رباب جیسی لڑکی پر مجھے فوقیت دی۔ سرد سرسراتی آواز پر وہ یکدم رک کر اس کی جانب پلٹا تھا۔
“کیا نام لیا تم نے ابھی؟”
دنگ نظروں سے اسے دیکھتا وہ دو قدم اس کی جانب آیا تھا۔
“اتنی جلدی آپ اس کا نام کیسے بھول سکتے ہیں جس سے بہت گہرا تعلق رہا ہویا پھر میرے سامنے انجان بنے کی کوشش کر رہے ہیں؟”
وہ زہر خند لہجے میں بولی تھی۔
“اس نے کیا کہا ہے تم سے وہ کہاں ملی تھی تمہیں؟”
وہ سپاٹ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
“اس نے کیا کہنا تھا، اس حسین مورتی کے لبوں پر تو صرف آپ ہیں آپ کا نام ہے اور اس چیز کے لئے مجھے فخر ہے آپ پر…..”
استہزائیہ لہجے میں بولتی وہ کاٹ دار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“وہ یہیں آپ کے گھر میں آکر ملی تھی مجھے بڑے استحقاق سے وہ آپ کے بیڈ روم میں چلی گئی تھی اور میں بہت عقیدت سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔”
اسی لہجے میں بولتی ہوئی وہ اس کے قریب گئی تھی اور چند لمحوں تک خاموشی سے سر اٹھائے اس کی آنکھوں میں کچھ تلاش کرتی رہی تھی۔
“آپ کو یہاں رہتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں، کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گے کہ تین سال میں کتنی بار وہ آپ کے بیڈ روم میں داخل ہوئی ہے؟”
اس کے چھتے لیجے پر زارون کے چہرے کے تاثرات تن گئے تھے۔
“اس طرح خاموش رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے جو نقاب آپ نے اپنے چہرے پر چڑھا رکھا تھا وہ اتر چکا ہے۔ “
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ کاٹ دار لہجے میں بولی تھی ۔
“اس وقت میرا کوئی لفظ تمہیں سمجھ نہیں آئے گا بہتر ہے کہ مجھے خاموش رہنے دو۔”
سرد نظروں سے اسے دیکھتا وہ جانے کے لئے پلٹا تھا، مگر وہ سرعت سے واپس اس کا رخ اپنی طرف کر چکی تھی۔
“صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ کے پاس اپنی صفائی میں کچھ کہنے کے لئے نہیں بچا ہے آپ جیسے مرد ہوتے ہیں ہیں جنہیں گھر میں سجا کر رکھنے کے لئے بیوی نام کا شو پیس چاہئے ہوتا ہے جو اف تک نہ کر سکے ان عیاشیوں پر جو وہ بڑی دلیری سے اس کی ناک کے نیچے ہی اڑا رہے ہوتے ہیں۔”
شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھتی وہ بول رہی تھی ۔
“تمہیں جو کچھ کہنا ہے کہو مگر اس گھر سے اور مجھ سے دور جانے کی بات مت کرنا۔”
بمشکل ضبط کرتے ہوئے وہ بولا تھا اور پھر پلٹ کر کمرے کی سمت بڑھ گیا تھا دوسری جانب وہ شعاوں میں گھری چند لمحوں تک رکی تھی مگر اگلے ہی پل تیز قدموں کے ساتھ اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوگئی تھی۔
“میرے دور جانے سے بھی کیا فرق پڑ جائے گا موجود تو ہے آپ کی پرسان حال۔”
اس کے سامنے آتی وہ بھڑک کر بول رہی تھی ۔
“میں کیوں رہوں اس غلاظت میں میرا کیا قصور ہے گھاٹ گھاٹ کا پانی تم پیتے رہے ہو۔”
اس کی بلند آواز پر زارون کے سرخ چہرے کے تاثرات سخت ہوئے تھے ضبط کی انتہا ہوئی تھی


Read More Novels


About the Novel

Name: Wo Pagal Se Dewani Se

Writer: Naila Tariq

Status: Complete, Digest

Category: Caring Hero Based, Happy Ending

Pages: 12


About The Author

Naila Tariq is a Pakistani Urdu fiction writer who has written stories in famous digests like Shuaa, Khawateen, Kiran, and Aanchal. She emphasises love, marriage, and family relations. Her stories, which are about real-life events and genuine emotions, endear her readers to her.


Follow For More Novel Updates


Click Below To Download The PDF File

Latest Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *