دعا ہو گیا وہ شخص از عفت سحر طاہر
Welcome to the World of Urdu Novels!
Bazmenovels is created for all readers passionate about heart-touching stories, emotional characters, and captivating plots. Here, you’ll find various Urdu novels, from romance and suspense to drama and social issues.
We aim to bring you quality, unique, and engaging stories that transport you to a different world. Whether you’ve been reading Urdu novels for years or just started exploring them, this is the perfect place.
Our goal is to support new writers and bring back the joy of reading to keep the charm of Urdu literature alive.
Join us so you can enjoy your favourite stories. Yes, downloading PDFS is completely easy and free.
Sneak Peek
“کبھی تو دو گھڑی ڈھنگ سے بات کر لیا کر میرے ساتھ۔”
وہ قدرے توقف کے بعد شاکی لہجے میں بولا تو بلو کے ہاتھ وہیں ساکت ہو گئے۔ پھر اس نے سیکھی نظروں سے شیرے کو دیکھا۔
“مجھے کیا بات کرنی ہے تیرے ساتھ؟؟”
“جتنے نخرے تیرے میں برداشت کرتا ہوں اور کوئی نہ کرتا۔”
وہ اس کی سرکشی جانچتے ہوئے بولا تو وہ نہ سلگ اٹھی۔
“ہن تو نہ کیا کر اور یہ نخرے کس بات کو کہہ رہا ہے تو؟”
“نخرے ہی تو ہیں۔ کبھی کسی کڑی نے اپنے منگیتر سے یوں گل نہیں کی ہوگی جیسے تو کرتی ہے۔کاٹ کھانے والے انداز میں۔”
وہ لگ رہا تھا کہ غصے میں ہے۔ مگر اس کا انداز بلو کو غصہ دلا رہا تھا۔ وہ غصے سے بولی۔
“یوہی فضول باتیں نہ کر میرے ساتھ فیر کہے گا کہ….”
“چل مٹی ڈال اس بات پے”
شیرے نے فورا مصالحت آمیز انداز اپنایا اور ہاتھ میں پکڑا شاپر اس کی طرف بڑھایا۔
“یہ میں شہر سے تیرے لیے لایا ہوں۔”
بلو نے شاپر پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا۔ تیز لہجے میں بولی۔
“کیا ہے ؟”
” خود دیکھ لے”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرایا وہ گہری سانس لے کر شاپر کے اندر جھانکنے لگی۔ چوڑیوں کے خوب صورت دمکتے ہوئے سیٹ پازب اور چمکتے ہوئے جھمکے۔
“یہ سب کیا اٹھا لیا ہے اور میں یہ کیوں لوں گی؟”
وہ ناک چڑھا کے رکھائی سے کہہ رہی تھی۔ شیرے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اسے غصہ آگیا تھا۔
“کیوں تو کیوں نہیں لے گی؟”
وہ تیز لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ بلو نے استہزائیہ انداز میں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو دیکھا۔
“یہ دس دس روپوں کی چیزیں لاکے تو میرا دل نہیں جیت سکتا۔”
ایک ہم تھا جو اس کے قرب وجوار میں کہیں پھٹ پڑا تھا۔ چند لمحوں تک تو وہ کچھ کہہ ہی نہیں پایا۔
“کیا کہہ رہی ہے تو بلو؟؟”
حیرت تھی کہ ختم ہی ہونے میں نہیں آرہی ایک ہی ہونے میں تھی۔
“دیکھ تیرے آج صاف صاف کیے دیتی ہوں۔ تو جو خواب دیکھ رہا ہے وہ چھوڑ دے میں آج تک نہ میں تو خود کو تیری منگ سمجھا ہے اور نہ ہی مجھے اپنی منگ سمجھ۔”
وہ بہت بے دردی سے کہہ رہی تھی اور وہ ششد رسا اسے دیکھے جا رہا تھا۔
“میرے بھی کچھ خواب ہیں، خیالات ہیں، خواہشیں ہیں اک غریب کے گھر سے اٹھ کے میں سے اٹھ کے
راجے غریب کے گھر نہیں جانا چاہتی۔”
Read More Categories
- After Marriage Based
- After Nikkah Based
- Age Difference based
- Boss Employee Based
- Caring Hero Based
- Cousin Marriage Based
- Digest
- Force Marriage Based
- Iffat Sehar Pasha
- Kidnapping Based
- Latest Posts
- Mariam Aziz
- Nabeela Abar Raja
- Nabeela Aziz
- Nadia Ameen
- Others
- Police Based Hero
- Police Hero Based
- Rude Hero Based
- Rude Heroin
- Second Marriage Based
- Strong Heroin
- Student Teacher Based
- Uncategorized
- Wani Based
- Web Based Novels
About The Novel
Name: Dua Hogeya Wo Shakhas
Writer: Iffat Sehar Tahir
Status: Complete, Digest
Category: Cousin Marriage Based, Happy Ending,
Pages: 20+
About The Author
Rubina Nadeem is a well-known Pakistani digest writer who offers emotionally rich and engaging stories. Her writings tend to emphasize love, sacrifice, and other societal problems, which speak volumes to women readers. She has earned a following in the Urdu literary fraternity with her similar writing style.